ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 50-50 کے فارمولے پر بولے شیوسینا رہنماسنجے راوت ،پہلے بھی مکر چکی ہے بی جے پی، اب جو بھی بات ہوگی تحریری طورپر ہوگی

50-50 کے فارمولے پر بولے شیوسینا رہنماسنجے راوت ،پہلے بھی مکر چکی ہے بی جے پی، اب جو بھی بات ہوگی تحریری طورپر ہوگی

Mon, 28 Oct 2019 17:49:16    S.O. News Service

ممبئی،28/اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹر میں بی جے پی پر دباو بناتے ہوئے شیوسینا نے 50-50 کے فارمولے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بی جے پی شیوسینا اتحاد نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کی ہے، لیکن ابھی تک حکومت بنانے کو لے کر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ پیر کو شیوسینا اور بی جے پی دونوں پارٹیوں کے وفد نے گورنر سے الگ الگ ملاقات کی ہے۔شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے کہاکہ بی جے پی اپنے وعدے سے نہیں مکر سکتے۔ بتا دیں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دویندر فڑنویس نے پیر کی صبح گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی۰ یہ ملاقات ریاست میں حلیف بھاجپا شیو سینا کے درمیان اقتدار کو لے کر جاری لڑائی کے درمیان ہوئی ہے۔ راج بھون کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ 'رسمی ملاقات تھی۔وہیں دوسری طرف شیوسینا کے وفد نے بھی گورنر سے ملاقات کی ہے۔مہاراشٹر میں 50-50 کے فارمولے پر کہاکہ 'یہ بی جے پی کا ہمارے ساتھ معاہدہ ہے۔ اس کو سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے میڈیا کے سامنے یہ بات کہی تھی۔ وہ اپنی بات سے نہیں مکر سکتی۔ 'بتا دیں شعلے فلم میں رحیم چاچا کے ڈائیلاگ ’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟‘کا استعمال کرتے ہوئے مہاراشٹر میں بی جے پی کی مخلوط اتحادی شیوسینا نے ملک میں اقتصادی سست روی کو لے کر پیر کو مرکزی حکومت پر نشانہ لگایا۔ شیوسینا نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟ اس ڈائیلاگ کے ذریعے پارٹی نے ملک اور مہاراشٹر میں چھائی اقتصادی سست روی کو لے کر حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔شعلے فلم میں یہ ڈائیلاگ رحیم چاچا (اے کے ہنگل)کا ہے جب گبر سنگھ (امجد خان) باہر کام کے لئے جا رہے ان کے بیٹے کو قتل کر کے اس کی لاش ایک گھوڑے پر رکھ کر گاو?ں میں بھیجتا ہے۔ اس دوران تمام گاو?ں والے بالکل خاموش ہیں اور خان چاچا سب سوال کرتے ہیں اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟ شیوسینا نے اس ڈائیلاگ کے ذریعے ملک میں اقتصادی سست روی اور تہوار کے موقع پر مارکیٹوں سے غائب رونق کے لئے حکومت کے نوٹ بندی اور غلط طریقے سے جی ایس ٹی کو نافذ کرنے کے لیے ذمہ دار بتایا ہے۔ اس نے کہا کہ سست روی کی وجہ سے منڈیوں کی رونق چلی گئی ہے اور فروخت میں 30 سے 40 فیصد کمی آئی ہے۔ صنعتوں کی حالت خراب ہے اور مینوفیکچرنگ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، اس سے لوگوں کے روزگار ختم ہورہے ہیں۔ بہت سے بینکوں کی حالت خراب ہے، وہ مالیاتی بحران کا شکار ہیں اور لوگوں کے پاس خرچ کرنے کو پیسہ نہیں ہے۔دوسری طرف حکومت بھی ریزرو بینک سے رقم نکالنے پر مجبور ہوئی ہے۔ دیوالی پر بازاروں میں سناٹا چھایارہا، لیکن غیر ملکی کمپنیاں آن لائن شاپنگ سائٹس کے ذریعے ملک کے پیسے سے اپنی تجوریاں بھر رہی ہیں۔بے موسم ہوئی بارش کی وجہ سے کسانوں کی تیار فصل خراب ہو گئی جس سے ان کی مالی حالت خراب ہے۔ 'لیکن بدقسمتی بات یہ ہے کہ کوئی بھی کسانوں کو اس سے باہر نکالنے کی نہیں سوچ رہا ہے۔یہاں تک کہ دیوالی سے پہلے ہوئے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی شور کم اور 'سناٹا زیادہ تھا۔


Share: